اگر چین نے کورونا وائرس کی ویکسین بنائی تو کن کو فری مہیا کرے گا؟ پاکستان کے حوالے سے بڑی خوشخبری سنا دی گئی - So Fast TV News Network (SFNN)

Tuesday, May 19, 2020

اگر چین نے کورونا وائرس کی ویکسین بنائی تو کن کو فری مہیا کرے گا؟ پاکستان کے حوالے سے بڑی خوشخبری سنا دی گئی


بیجنگ(ویب ڈیسک )چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین نے کورونا وائرس کے پھیلاوکو روکنے کیلئے شفاف اقدامات کیے ہیں اور کورونا کی ویکسین کی ترقی پذیر ممالک میں باآسانی رسائی یقینی بنائی جائے گی۔ڈبلیو ایچ او کے تحت ہونے والی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کورونا کی وبا کے آغاز میں چین کی جانب سے

کیے گئے اقدامات کا دفاع کیا۔شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک وبا کے کنٹرول میں آنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے تحت دنیا بھر کے کورونا سے متعلق ردعمل اور اقدامات کی مکمل تحقیقات کی حمایت کرتا ہے تاہم یہ تحقیقات بامقصد اور غیر جانبدار ہونی چاہئیں۔چینی صدر نے آئندہ 2 سال کیلئے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کیلئے 2 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگر چین نے کورونا کی ویکسین بنائی تو اسے دنیا بھر کے شہریوں کیلئے دستیاب کرے گا اور ترقی پذیر ممالک میں اس کی رسائی کو یقنی بنائےگا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے متعلق چین اور عالمی ادارہ صحت پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کی مالی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن چین نے الٹی امریکہ کی درگت بنانی شروع کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکہ اس وقت اقوام متحدہ کا 1ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہے۔ اس کے ذمہ یہ رقم اقوام متحدہ کے ریگولر آپریٹنگ بجٹ اور ’پیس کیپنگ آپریشنز‘ کی مد میں واجب الادا ہے۔ چین نے اب یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ امریکہ کو یہ کہہ کر شرمندہ کر دیاہے کہ پہلے اپنا یہ قرض تو ادا کر دو۔گزشتہ روز اقوام متحدہ میں تعینات چینی مندوب نے امریکہ کے ذمہ واجب الادا اس رقم کی طرف اشارہ کیا اور ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ میں کسی بھی ملک کی طرف سے یہ غیرمعمولی مطالبہ ہے۔ چینی مندوب کی اس بات کے جواب میں امریکی مشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”چین کورونا وائرس کے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی حرکتیں کر رہا ہے۔ چینی حکومت چاہتی ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے میں جس بدانتظامی کا مظاہرہ کیا اور وباءسے متعلق معلومات دنیا سے چھپائیں، اب اس کی کوشش ہے کہ دنیا کی توجہ اس سے ہٹائی جائے۔“


No comments:

Post a Comment

.pop